Islamic Scholars : علماء اور ذریعۂ معاش : ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ : Livelihood
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین کھانا آدمی کے اپنے ہاتھ کی کمائی کا ہے۔
تو جواباً عرض ہے کہ یہ تجویز کئی اعتبار سے محل نظر ہے:
: 1
اس تجویز کو پیش کرنے والوں کا یہ نقطۂ نظر عموما اس فکر پر مبنی ہوتا ہے کہ امامت و خطابت ، دعوت و تبلیغ یہ کوئی اتنا بڑا کام نہیں کہ جس پر پیسے لیے جائیں ، بلکہ بہت سے لوگ تو اسے علماء کی سستی و کاہلی اور نا قابلیت سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ دنیا کے لیے کیا جانے والا ادنیٰ سا کام بھی انہیں کام نظر آتا ہے ، یعنی اگر کوئی ان کی دنیا سنوارے تو یہ کام ہے اور اگر کوئی ان کی آخرت سنوارنے کی فکر میں اپنے زندگی وقف کر دے اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دے تو یہ اس کی سستی ، کاہلی اور نا قابلیت ہے
حالانکہ آگے آنے والی حدیث سے اس کی تردید ہو رہی ہے۔
: 2
: 3
ایک عالم جب اس لائن میں آتا ہے تو اس کا معنی یہ ہوتا کہ گویا اس نے خود کو اللہ کے دین کے لیے وقف کر دیا ہے ، اب اگر وہی کمانے اور دیگر ذرائع معاش کی تلاش و جستجو میں لگ جائے گا تو اصلاح عوام اور تبلیغ دین کا فریضہ مخلتف مجالات علمیہ میں کون ، کب اور کیسے انجام دے گا۔
: 4
تجارت والی یہ تجویز ان کے لیے تو دو پل کے لیے گارگر ہو سکتی ہے جن کے یہاں کوئی خاندانی یا کم از کم والد کا کوئی بزنس ہو ، مگر ان کے حق میں ہرگز مفید نہیں جن کے یہاں پہلے سے کوئی گھر کا کاروبار نہیں ، کیونکہ ایسے شخص کے پاس معاش کے لیے اب دو ہی راستے بچتے ہیں
أ – وہ کوئی ہنر سیکھے یا مزدوری وغیرہ کرے اور بالکل ابتداء سے معاشی ڈھانچہ کھڑا کرے ، ایسا کرنے سے وہ پیسہ تو کما سکتا ہے مگر اپنے علم کا حق ہرگز ادا نہیں کر سکتا۔
ب – وہ خود نئے سرے سے کسی کاروبار کی شروعات کرے ، مگر اس میں بھی مسئلہ وہیں جا کر اٹک جاتا ہے کہ آج کل کاروبار کو بالکل نئے سرے سے شروع کرنے کے لیے کم از کم ایک ، ڈیڑھ لاکھ روپئے انویسٹمنٹ کے لیے چاہیے ہوتے ہیں ، جو کہ عموماً علماء کے پاس نہیں ہوتے۔
چنانچہ یہ دونوں راستے بھی علماء کے لیے بند ہیں ، اس لیے بھی یہ تجویز غیر معتبر ٹہری۔
: 5
آپ کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے اگر سارے علماء کرام کاروبار شروع کر دیں تو پھر تحقیق احادیث و تصنیف کتب جیسے دیگر کاموں کو کون انجام دے گا کہ جس کے لیے ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے ، تجارت و مزدوری کے ساتھ تو یہ ہرگز ممکن نہیں ، کیونکہ اس میں جہاں وسعت مطالعہ اور اتقان علم ضروری ہے وہیں ذہنی سکون اور اطمینان قلب کی بھی حاجت ہوتی ہے جو کہ کسی تاجر یا مزدور کے یہاں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
تنبیہ : اب یہاں کوئی علامہ البانی رحمہ اللہ کی مثال پیش نہ کرے اور اس کی دو وجوہات ہیں
أ – گھڑی کا کاروبار ان کا خاندانی تھا ، اور میں اوپر یہ بیان کر چکا ہوں کہ تجارت والی تجویز ان علماء کے لیے بسا اوقات ممکن ہے جن کے یہاں سابقہ کوئی کاروبار ہو۔
ب – یہ کاروبار انہوں نے صرف شروعاتی دور میں کیا بعد میں خود کو مکمل طور پر علم کے لیے وقف کر دیا۔
: 6
چونکہ علماء کے معاش کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ، اس لیے اگر ہم اسلاف کے زمانہ میں جھانک کر دیکھیں تو وہاں بھی ہمیں یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ علماء جنہوں نے اپنی زندگیوں کو علم سیکھنے اور سکھانے کے لیے وقف کر دیا تھا تو وہ کاروبار نہیں کرتے تھے بلکہ ہر طرف سے کنارہ کش ہو کر مکمل یکسوئی کے ساتھ طلب علم میں لگے رہتے تھے اور اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔
أ : خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے کے بعد تجارت نہیں کرتے تھے بلکہ تبلیغ دین کے فریضے کو انجام دینے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔
لہذا معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص تجارت کو چھوڑ کر اپنے اس وقت کو دین کے کام میں وقف کر رہا ہے تو اسے اس کے عوض معقول تنخواہ ملنی چاہیے ، اور یہ اس کا حق ہے نہ کہ اس پر کوئی احسان۔
: 7
دراصل علماء سے یہ مطالبہ کرنا ہی سراسر غلط ہے کہ وہ کوئی اور ذریعہ معاش تلاش کریں اور دینی کام فری میں کریں۔
یہ مطالبہ کبھی دنیوی علوم کے ماہرین یا کسی اور میدان کے متخصصین سے کیوں نہیں کیا جاتا ؟
اصل میں بات یہ ہے کہ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے علماء سے اس طرح کے مطالبے کیے جاتے ہیں ، تاکہ اصل جرم اسی شور شرابہ میں دب جائے اور سامنے ہی نہ آ سکے ، ورنہ جس طرح دیگر میدانوں کے متخصصین اپنے میدانوں کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہیں (جو کہ بالکل بجا بھی ہے) اور وہیں اپنی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں ، نیز عوام بھی بصد احترام ان کو ان کا حق دے رہی ہے اور انہیں آنکھوں پر بٹھا رہی ہے تو پھر علماء طبقے پر ہی یہ ظلم کیوں ؟ ان کے ساتھ یہ ناروا سلوک کس لیے؟ دیگر لوگوں کی طرح وہ اپنے میدان کو ذریعہ معاش کیوں نہیں بنا سکتے ؟ اور اپنا حق کیوں نہیں لے سکتے ؟
بات دراصل یہ ہے کہ عوام انہیں ان کا حق دینا ہی نہیں چاہتی ، دین کے نام پر اس کی جیب سے پیسے نکلتے ہی نہیں ، ڈائٹ چارٹ بنانے والے کو دو ہزار روپئے بڑے آرام سے دیتے ہیں ، ڈاکٹر کو فقط دکھانے کے 500 اور 1000 روپئے فیس بھی بخوشی دیتے ہیں مگر علماء کو دیتے وقت 20 روپئے بھی 2000 کے مانند لگتے ہیں ، ان سے ہم 24 گھنٹے فری سیوا چاہتے ہیں ، کیونکہ ان کی ذہن سازی ہی اسی طرح کی گئی ہے کہ دین کا کام فری میں ہوتا ہے ، اگر عالم قرآن پڑھ کر اجرت لے رہے ہیں تو وہ ان الذین یشترون بعھد اللہ ۔۔۔۔۔ کے تحت قرآن کو (نعوذ باللہ) بیچ رہا ہے وغیرہ
نیز ستم تو یہ ہے کہ علماء کے معاش اور ان کی تنخواہ کے سلسلے میں خود علماء نے علماء کا خوب استحصال کیا ہے ، جاہل منتظمین کی تو بات ہی اور ہے۔
مسلئہ کا حل
ناچیز کی نظر میں اس مسئلہ کا واضح اور سب سے آسان سا حل یہی ہے کہ جس طرح دیگر میدانوں کے متخصصین اسی کو اپنا ذریعہ معاش بناتے ہیں اور عوام بھی بخوشی انہیں ان کا حق دیتی ہے ، اسی طرح علماء بھی کاروبار میں اپنا بیش قیمتی وقت لگانے کی بجائے اسی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ بخوشی انہیں ان کا حقیقی حق دے۔
محمد عاصم اسعد
Contact No. : 8840183406
